اس افسردگی کی وجہ بتائیں تو بتائیں کیسے
دل میں بڑھتے غموں کی آگ دکھائیں تو دکھائیں کیسے

سہارہ تھا جو کل آج وہ بن گیا اجنبی
بےسہارہ یہ زندگی بتائیں تو بتائیں کیسے

جسکو مجھ سے زیادہ تھا اپنا مقصد عزیز
اس بیوفا سے وفا نبھائیں تو نبھائیں کیسے

مجھ سے میرے غموں کی وجھ پوچھتے ہیں وہ
اس خودپرست کو بھلا سمجھائیں تو سمجھائیں کیسے

رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے فاصلہ درمیاں
ان دوریوں کو گٹھائیں تو گٹھائیں کیسے

کیا ہوتا جو بیت جاتے چند لمحے تیرے ساتھ
انتہائے محبت کا یقیں دلائیں تو دلائیں کیسے

ترک الفت کی کوئ وجہ بتائی تو ہوتی
اس نوازش کو زمانے سے چھپائیں تو چھپائیں کیسے

آج بھی ہم تیرے لوٹ آنے کی امید میں ہیں “ضرار”
تجھ کو وہ بھولے دن یاد دلائیں تو دلائیں کیسے

ﻋﺮﺑﻲ, ﺍﻗﺘﺒﺎﺳﺎﺕ, and تمبلر image