خواہشیں انسان کو اپنے تعاقب میں خوب دوڑاتی ہیں... وہ بھی دشتِ طلب میں ایک عمر ایک خوش رنگ خواہش کے تعاقب میں بھاگتی رہی..خواہش بھی کیا؟ ایک خاکی بشر کی ایک نظرِ کرم کی خواہش... اس کی توجہ کے حصول کی خواہش. اس خواہش نے تتلیوں کی مانند اپنے دھنک رنگوں کے سحر میں جکڑے اسے دوڑائے رکھا... وہ بنا رکے دوڑتی رہی... اور یک طرفہ خاموش محبت کا اَن کہا عہد نبھاتی رہی.. لیکن آخر کب تک؟؟
خواہش جتنی بھی زور آور ہو اس کے حصول کے امکان رفتہ رفتہ مدہم ہوتے ہیں تو حوصلوں کو توڑنے لگتے ہیں... خواب جتنا بھی خوبصورت ہو... بھلے انسان تعبیر سے خود کو جتنا بھی بے نیاز ثابت کرنے کی سعی کرے.. ایک وقت آتا ہے کہ خواہش ثمر کی طلب میں ہلکان ہونے لگتی ہے.. . آنکھیں خواب کی تعبیر کے انتظار میں تھکنے لگتی ہیں... اور انسان رک جاتا ہے... اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا. . وہ بھاگتی بھاگتی تھک گئی لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا. . جب اسے لگتا کہ اب بس ایک قدم کی دوری ہے تبھی اچانک سے وہ ایک قدم ایک لمبی مسافت کا روپ دھار لیتا اور وہ محض ہاتھ ملتی رہ جاتی. .. تب اسے ادراک ہوتا کہ وہ ایک قدم کی دوری محض سراب تھی ... صدیوں کا فاصلہ تو ازل سے برقرار تھا...
یونہی لاحاصل کی چاہ میں دوڑتی ایک عمر کے زیاں کے بعد اس کی زندگی میں بھی ایسا وقت آیا۔۔ ایک دن... محض ایک لمحے کو... وہ تھک کر سانس لینے کو رکی تو سب گنوا دیا. .. ریاضت... مسافت.. تھکن رائیگاں گئی اور خواہش کی تتلی نظروں سے اوجھل ہوگئی. . اس ایک لمحے کے پڑاؤ نے سب غارت کر دیا.. . جب اس نے اک نئے عزم سے سفر کا اعادہ کیا اور قدم بڑھانے چاہے تو قدموں نے ساتھ دینے سے انکار کردیا... عقب سے اس کے اپنے قدموں کے نشان اسے بلانے لگے. .. قدم واپسی کے لئے ہمکنے لگے... اور تب اس پر یہ بھیانک انکشاف ہوا کہ اب یہ سفر جاری رکھنا کسی طور ممکن نہیں رہا... قدموں کو مسافت کی رائیگانی کا دکھ تو تھا لیکن واپسی کے سفر میں اپنے نشانات سے گلے ملتے وہ یہ دکھ بھول گئے... سینے میں دھڑکتا دل قدموں میں آگرا اور ایک اور کوشش کی بھیک مانگنے لگا لیکن ضروری نہیں کہ ہر کاسے کے مقدر میں بھیک ہو... سو دل۔۔۔۔۔ قدموں کی بےنیازی نے کچل ڈالا. . قدموں کو اس حادثے کا ایک لحظے کو افسوس ہوا لیکن اگلے ہی لمحے دل کے لئے عبرت کا فتویٰ سنا کر آگے بڑھ گئے...
مجروح دل واپس اپنے مقام پہ تو آگیا لیکن ہمیشہ کے لئے ناکارہ ہوگیا. یوں وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ آئی۔۔ لیکن دل نے اپنے دروازے پہ "ہانٹڈ" کا بورڈ لگا کر خود کو اپنے ہی درو دیوار میں مقفل کر لیا.. گزرے سالوں میں کتنی ہی خواہشوں نے دروازہ کھٹکھٹایا. .. بلکہ پیٹ ڈالا لیکن دل کا دروازہ مقفل رہا. .. آنکھوں نے کسی بیوہ کی سی اداسی کی سیاہ چادر اوڑھ لی اور ہونٹوں سے نکلنے والی آہوں نے نوحوں کا روپ دھار لیا ...
اور پھر اچانک ایک دن روز و شب کے جھمیلوں سے نپٹتے اس نے مانوس سی سرسراہٹ پہ چونک کر سر اٹھایا تو سامنے اسی خواہش کو مجسم پایا. .. خواہش کی تتلی اپنے تمام تر رنگوں کے ساتھ گویا اس کے ہاتھ پر بیٹھنے کو تیار تھی. .. وہ سہم کر, بدک کر پیچھے ہٹی.. .
"کیسی ہیں؟" اس آواز کی بازگشت سماعتوں کو چیرتی دل کی دیواروں سے ٹکرائ لیکن اسے سراب کا گماں ہوا.
اررے ایسے بھی کوئ کرتا ہے کیا؟ آپ نے تو اچانک سے سب رابطے منقطع کردئیے" ان جملوں کی گونج نے پوری شدت سے دل کا دروازہ کھٹکھٹایا... تو زنگ آلود قفل مزید مزاحمت نہ کر پائے اور دروازہ ایک بار پھر وا ہوگیا.. . گزرے وقت کے مرہم سے مندمل ہونے کی بجائے ناسور بن جانے والے زخموں سے چور دل بے یقینی کی بیساکھیاں تھامے دروازے تک آیا کہ اب تک تو سماعتیں بھی بے اعتبار ہوچکی تھیں. . وہ اس کے بالکل سامنے کرسی پر بیٹھ چکا تھا... " مجھے ہمیشہ سے آپ کی طرح خودمختار اور پراعتماد ہمسفر کی خواہش تھی" دل کو پر لگ گئے اور دل خوشیوں کے آسمان پہ اڑنے لگا ... "
آ"آپ کافی بدل گئی ہیں...لیکن یہ بدلاؤ اچھا ہے... ورنہ کالج میں تو آپ بہت..... " اس کے اس ادھورے جملے کو مکمل سننے کی سکت اس میں نہیں تھی.. وہ جو سمجھی تھی کہ اس کی خاموش محبت... دشتِ طلب میں اس کی لمبی مسافت رنگ لائ تھی... ماضی اور حال کے اس موازنے پر تڑپ اٹھی.. . اور کانوں میں کتنی ہی دیر سے خاموش ہینڈ فری لگائے سامنے والے کے منہ سے نکلنے والے ایک ایک لفظ کی بوند سے خود کو سیراب کر رہی تھی. .. ادھورے جملے کے معانی سے تڑپ کے جب بولی تو اسے اپنی ہی آواز اجنبی لگی " معاف کیجئے.. . کیا آپ مجھ سے مخاطب ہیں؟ " کانوں سے بے نیازی سے ہینڈ فری نکالتے اس نے معصومیت سے سوال کیا... "جی؟؟؟؟ " سامنے والے کی حیرت دیدنی تھی.. "کیا میں آپ کو جانتی ہوں؟" اس نے آگے بڑھ کر اپنے گرد منڈلاتی خواہش کی تتلی کو پکڑ کر چٹکیوں میں مسل ڈالا.