بہت خاموش رہتی ہوں
مجھے کچھ بھی نہیں کہنا
نہیں شکوہ کوئی بھی اب
مجھے معلوم ہے اس سے نہیں اب فائدہ کوئی
جو ہوں احساس سے عاری
وہ شکوے کب سمجھتے ہیں
انہیں محسوس کب ہوتی ہے لہجوں میں نمی کوئی
انہیں لفظوں کے نوحے بھی سنائی کب کہیں دیں گے
بنا کر آئینے دل میں وہ اپنے نصب رکھتے ہیں
انہی میں عکس لوگوں کے بنا کر خوب ہنستے ہیں
انہیں معلوم ہی کب ہے
یہ آئینے
کبھی جب ٹوٹ جائیں گے
تو بکھری کرچیاں دل میں ہی ان کے پھیل جائیں گی
بہت تکلیف دیگا پھر
کسی کی یاد کا لمحہ
مگر کب ہاتھ آئے گا
کوئی گزرا ہوا لمحہ
محبت روٹھ جائے تو کبھی واپس نہیں آتی
یہی سب سوچ کر چپ ہوں
کہ ہو احساس سے عاری
تمہیں معلوم ہی کب ہے
مگر پھر بھی یہی سچ ہے
کوئی سمجھے یا نہ سمجھے
بہت تکلیف ہوتی ہے!!!